Home » شياٹيکا کي بيماري

شياٹيکا کي بيماري

شياٹيکا  کي بيماري

شیاٹیکا  کی بیماری

تندرستي ہزار نعمت ہے  اور اس نعمت سے مستفيد ہونے کے ليۓ ضروري ہے کہ ہم خود بھي  اپني صحت کا خيال رکھيں اور اپنے انساني اعضاء کا استعمال کرتے ہوۓ احتياطي تدابير اختيار کريں – کسي بھي  چيز کي زيادتي بري ہوتي ہے اور ہمارے انساني جسم کا بھي وہي حصّہ زيادہ متاثر ہوتا ہے جس کا ہم استعمال زيادہ کرتے ہيں يا استعمال کرتے ہوۓ بنيادي حفاظتي نکات کا خيال نہيں رکھتے ہيں –

ہمارا انساني جسم مختلف طرح کي ہڈيوں ، پٹھوں ، اعصاب ، شريانوں  اور وريدوں کا ايک بڑا منظم اور مرتب قسم کا مجموعہ ہوتا ہے – صبح سے شام تک ہم حرکت ميں رہتے ہيں اور اس حرکت کے نتيجے ميں ہمارے جسم کو مختلف طرح کے مسائل کا سامنا رہتا ہے – اس ميں ہمارا اعصابي نظام متاثر ہو سکتا ہے ، پٹھے متاثر ہو سکتے ہيں يا ہڈيوں کو چوٹ لگ سکتي ہے جس کے نتيجے ميں ہميں درد کا احساس ہوتا ہے – بعض پيشے بھي ايسے ہوتے ہيں جن ميں انساني جسم کے بعض حصّوں کا استعمال ضرورت سے زيادہ  ہوتا ہے – مثال کے طور پر ڈرائيور حضرات  اکثر اوقات کمر کے مسائل کا شکار ہوتے ہيں – جو لوگ لگاتار کرسي پر بيٹھے رہتے ہيں ان ميں کمر کا حصّہ متاثر ہوتا ہے – جو لوگ وزن اٹھانے کا کام کرتے ہيں يا ايسے کام جن ميں گھومنے والي جسماني  حرکات زيادہ  ہوتي ہيں وہ لوگ کمر کے مسائل کا شکار ہوتے ہيں –

شياٹيک  انساني جسم کي سب سے موٹي عصب ہے جو  کمر کے نچلے حصّے سے نکلنے والي پانچ اعصابي جڑوں کا ايک مجموعہ ہے اور ٹانگ کے پچھلے حصّے کو  اس کي ترسيل ہوتي ہے – مختلف وجوہات کي بنا پر يہ عصب مسائل کا شکار ہوتي ہے جس کے نتيجے ميں اس کي علامات واضح ہونا شروع ہو جاتي ہيں –  اس عصب کے درد کو شياٹيکا کہتے ہيں – يہ بيماري اس دور کا ايک اہم طبي مسئلہ ہے جو تقريبا ہمارے معاشرے کے چاليس فيصد افراد کو عمر کے کسي نہ کسي حصّے ميں متاثر کر  رہا ہوتا ہے –

Leave a Reply