Home » جنسی مسائل اور انکا حل

جنسی مسائل اور انکا حل

sex problemجنسی مسائل اور انکا حل
بہت کم نوجوان ایسے ہیں جنہیں اپنی جوانی پر ناز ہو اور وہ کہہ سکیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں اپنی جوانی کو روگ نہیں لگایا یا پھر دیگر ذرائع سے جنسی تسکین حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی-
آج کل کے نوجوان وی سی آر’ فحش فلموں و تصاویر’ شہوانی جذبات بھڑکانے والے ناول اور یورپی طرز معاشرت اپنانے کی وجہ سے مکمل بالغ ہونے سے قبل ہی جنسی فعل کی خواہش SEX DESIRE کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس خواہش کی تکمیل کیلئے زیادہ تر نوجوان خود لذتی’ مشت زنی MASTER BATION یا ہینڈ پریکٹس کی عادت کو اپنا لیتے ہیں بیشتر ہم جنسیت HOMO SEXUALTY میں مبتلا ہو جاتے ہیں بعض جنسی کجروی میں LESBIANS & GAYS بن جاتے ہیں یعنی ہم جنس پرستی میں مفعول بن کر جھوٹی لذت حاصل کرتے ہیں- کچھ لوگ جنسی تسکین کیلئے اس سلسلے میں پروفیشنلز طوائفوںسے رجوع کرتے ہیں- بھوک پیاس جیسی فطری خواہشوں کی طرح جنسی تسکین کی خواہش بھی ایک فطری خواہش ہے جو کہ قدرت کی طرف سے انسان کو طبعی طور پر عطا کی گئی ہے
عضو مخصوص
عضو مخصوص کی لمبائی سے متعلقہ بہت سی بے بنیاد باتوں پر لوگ یقین رکھتے ہیں- اس سلسلے میں سائنسی انکشافات نے واضح کر دیا ہے کہ نارمل جنسی ملاپ کیلئے عضو مخصوص بحالت انتشار ساڑھے چار انچ سے پانچ انچ تک لمبا ہو تو مکمل مردانگی کا ثبوت ہے اگر عضو کی سختی اور شہوت کی کیفیت تسلی بخش ہے تو مرد دنیا کی کسی بھی نارمل عورت کو مطمئن کر سکتا ہے-
تازہ ترین میڈیکل رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ایک خاتون ڈاکٹر نے واضح کیا ہے کہ نسوانی عضو مخصوص کا وہ حصہ جو جنسی لذت سے خاص تعلق رکھتا ہے اور جس کا عورت کی تسلی و تشفی سے بھی تعلق ہوتا ہے اس کا طول اور عمق (لمبائی اور گہرائی) ڈھائی انچ ہوتا ہے لہذا مرد کے عضو مخصوص کا ”طول” اتنا ضرور ہونا چاہئے-
عقم اولاد نہ ہونا
عورتوں میں اولاد نہ ہونے کے مرض کو عقر (بانجھ پن) کہا جاتا ہے لیکن یہاں اس مرض کا ذکر کیا جا رہا ہے جو مرد کو اولاد سے محروم رکھنے کا موجب ہے واضح ہو کہ مرد کے ایک مرتبہ کے انزال میں جو منی خارج ہوتی ہے اس میں چار ارب حونیات منی (SPERMS) خارج ہوتے ہیں اور عورتوں میں استقرار حمل کے لئے صرف ایک سپرم کی ضرورت ہوتی ہے بعض اوقات جنسی غلط کاریوں کے برے اثرات کی وجہ سے حونیات منویہ کمزور یا کم ہو جاتے ہیں جس کی بنا پر حمل قرار نہیں پاتا اور اولاد نہیں ہوتی بعض حضرات کی مردانہ طاقت تو موجود ہوتی ہے لیکن سپرم کمزور ہوتے ہیں بعض اوقات مردانہ طاقت کمزور ہوتی ہے مگر سپرم طاقتور اور مکمل ہوتے ہیں – طب یونانی میں ایسی ادویہ موجود ہیں جن سے منی گاڑھی ہو جاتی ہے خون اور پیپ ختم ہو جاتی ہے مادہ منویہ میں اولاد پیدا کرنے والے حونیات (Sperms) کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور وہ پہلے سے طاقتور ہو جاتے ہیں…………
نامردی IMPOTENCY
وہ جنسی امراض اور عوارضات جنکا ذکر کیا جا چکا ہی کسی نہ کسی سطح پر نامردی کی تعریف میں آتے ہیں تاہم اگر قوت مجامعت کمزور ہو جائے عضو مخصوص میں مکمل خزیش انتشار نہ ہو اور مریض وظیفہ جنسی کو پورے طور پر سرانجام نہ دے سکے تو اس حالت کو جنسی کمزوری یا ضعف باہ کہتے ہیں لیکن یہ قوت بالکل ناقص اور باطل ہو جائے عضو مخصوص میں کوئی خیزش نہ ہو جماع کی طرف رغبت نہ رہے طبعیت کو جذبہ شہوت سے نفرت ہو جائے اور باوجود کوشش کے جنسی فعل انجام نہ دیا جا سکے تو اسے عنانت یا نامردی کہتے ہیں-
اب پھر نامردی کو دو اقسام میں منقسم کیا جا سکتا ہے-
1- عضوی (ORGANIC)
-2 فعلی اور ذھنی (FUNCTIONAL AND PSYCHOLOGICAL)
-1 عضوی نامردی بیرونی طور پر عضو مخصوص کی ساخت اور جنسی گلینڈز کی خرابی سے تعلق رکھتی ہے-
-2فعلی اور ذھنی نامردی کے مختلف نفسیاتی اور دیگر اسباب ہیں نامردی کی تمام اقسام کی تشخیص کرنے کے بعد….
پروفیشنلز طوائفوں سے جنسی تعلقات
پروفیشنلز طوائفوں سے جنسی تعلقات قائم کرنا اگرچہ خلاف وضع فطری فعل نہیں لیکن قانونی اور شرعی حیثیت سے یہ ناجائز ہے علاوہ ازیں طوائف کا پیار اور محبت روپے پیسے کیلئے ہوتا ہے لہٰذا قدرتی پیار اور محبت کے فقدان کی وجہ سے وہ کسی بھی فرد کو جنسی طور پر مکمل آسودگی بہم نہیں پہنچا سکتی اس کے علاوہ طوائف کسی ایک فرد کی پابند نہیں ہوتی بلکہ طرح طرح کے لوگ اس سے جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں جن میں چھوتدار امراض کے مریض بھی ہو سکتے ہیں لہذا بازاری اور پروفیشنلز عورتوں سے مختلف امراض مثلاً سوزاک’ آتشک’ ایڈز وغیرہ لاحق ہو سکتی ہیں- ماہواری کے دوران عورت کے پاس جانا کئی بیماریوں کو دعوت دینا ہے- چونکہ طوائف کا تو کاروبار ہوتا ہے لہذا وہ یہ کبھی بھی نہیں بتاتی کہ وہ ماہواری سے ہے لہٰذا دوران ماہواری جنسی تعلقات قائم کرنے والے افراد اپنی جوانی کو روگ لگا لیتے ہیں اور کئی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سپرم یعنی نطفہ کی مقدار اور معیار میں بظاہر کمی ہوئی ہے۔ آج کے نوجوان لوگ کل بانجھپن کے کلینک میں مریض ہوں گے۔
نوجوانی میں جنسی عمل کے دوران لگنے والی بیماریاں خواتین کی اہم نالیوں کی بندش کا باعث ہوتی ہیں اور جب یہ لڑکیاں بڑی ہو کر ماں بننا چاہتی ہیں تو حاملہ نہیں ہو سکتیں۔
کیریئر بنانے والی خواتین دیر سے بچے پیدا کر رہی ہیں۔ ہے۔
خواتین میں پینتیس سال کے بعد بچّہ پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
سرعت انزال PREMATURE EJACULATION
جنسی امراض میں مرد کیلئے سب سے زیادہ شرمناک اور باعث خفت مرض سرعت انزال ہے جس کے مکمل علاج کے بغیر رشتہ ازواج کا قائم رہنا دشوار ہو جاتا ہے اپنی بیوی سے شرم و ندامت کی وجہ سے مریض زندگی پر موت کو ترجیح دینے لگتا ہے-
بوقت جماع (جنسی ملاپ) فوری طور پر (انزال) منی کا اخراج سرعت انزال کہلاتا ہے جب یہ مرض شدت اختیار کرتا ہے تو دخول سے قبل ہی انزال ہو جاتا ہے بعد ازاں حالت یہ ہو جاتی ہے کہ ادھر جنسی ملاپ کا خیال آیا اور ادھر ادھوری سی شہوت ہو کر فوراً مادہ تولید خارج ہو گیا اور جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے بعض مریضوں کے ایسے حالات تو اس قدر بدتر ہو جاتے ہیں کہ محض شہوانی تصور یا کوئی خوبصورت لڑکی دیکھنے یا عضو مخصوص کے کسی ملائم کپڑے سے چھو جانے سے خیزش ہو کر یا خیزش ہوئے بغیر معمولی سا دغدغہ محسوس ہو کر مادہ تولید خارج ہو جاتا ہے-
احتلام NIGHT DISCHARGE
رات کو سوتے وقت منی یا مادہ منویہ کا خارج ہو جانا احتلام کہلاتا ہے طبعی احتلام زیادہ تر خواب کے ساتھ ہوتا ہے اس میں انتشار کی کیفیت پائی جاتی ہے اور احتلام کے بعد صبح طبیعت چست اور فرحت کا احساس ہوتا ہے طبعی احتلام مہینے میں دو تین بار سے زیادہ نہیں ہوتا جبکہ مرض کی حالت میں ہر روز یا دوسرے تیسرے روز اور بعض اوقات ایک رات میں دو دو مرتبہ احتلام ہو جاتا ہے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ احتلام کی کثرت دراصل جریان کی ابتدائی سٹیج ہے- اس کے نقصانات جریان کی طرح کے ہیں پیشاب جل کر آتا ہے خصیوں میں درد ہونے لگتا ہے سستی کمزوری نسیان چڑ چڑاپن کی شکایت ہو جاتی ہے- یہ مرض بھی باقاعدہ علاج اور پرہیز سے ٹھیک ہو جاتا ہے
عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونا
عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے(ED)سے مُراد یہ ہے کہ متعلقہ مَرد،جنسی ملاپ کے لئے اپنے عضو تناسل میں مطلوبہ تناؤحاصل نہ کر سکے یا اس تناؤ کو جنسی ملاپ کی تکمیل تک قائم نہ رکھ سکے۔ اگرچہ یہ کیفیت بڑی عمر کے مَردوں میں زیادہ عام ہے،تاہم یہ عام صورت حال کسی بھی عمر میں پیش آسکتی ہے۔بعض اوقات عضو تناسل میں تناؤ قائم نہ رکھ پانا لازمی طور پر فکر مندی کی بات نہیں ہے لیکن اگر ایسا بار بار یا مستقل طور پر ہوتا ہے تو اِس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ اور باہمی تعلقات کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور خود احترامی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔پہلے اِس کیفیت کو نامَردی کہا جاتا تھااور اِسے ایک ممنوعہ موضوع سمجھا جاتا تھا۔اِس معاملے کو ایک نفسیاتی مسئلہ یا بڑی عمر کا نتیجہ خیال کیا جاتا تھا۔یہ خیالات حالیہ برسوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔اب یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ عضو تناسل میں تناؤ کا نہ ہونا یا اِسے قائم نہ رکھ پانے کے مسئلے کا تعلق نفسیاتی عوامل کے بجائے جسمانی عوامل سے زیادہ ہوتا ہے اور یہ کہ بہت سے مَردوں میں 80سال کی عمر تک بھی یہ صلاحیت معمول کے مطابق ہوتی ہے۔اگرچہ اپنے معلاج سے جنسی مسائل پر بات کرنا مشکل محسوس ہو سکتا ہے ،تاہم اِس سلسلے میں مدد حاصل کرنے کی اپنی ایک افادیت ہے۔ اِس مسئلے کے علاج میں ادویات سے جرّاحی (آپریشن )تک بہت سے علاج دستیاب ہیں جن کے ذریعے اکثر صورتوں میں متعلقہ مَردمعمول کی جنسی سرگرمیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
دِل کے امراض۔
خون کی نالیوں میں رُکاوٹ ہونا(atherosclerosis)۔ ہائی بلڈ پریشر۔ ذیابیطیس۔ مُٹاپا۔ غذا کے ہضم ہونے اور اس کی جسم میں ترسیل کے مسائل (metabolic syndrome)۔
دِیگر اسباب:
بعض تجویز کردہ ادویات۔
تمباکو نوشی۔
الکحل اور دِیگر منشّیا ت ک استعمال۔
پراسٹیٹ کے سرطان کا علاج۔
توازن اور حرکت کی خرابی کا مرض (Parkinson’s disease)۔
مُدافعتی نظام کا مرکزی اعصابی نظام کو تباہ کرنا (Multiple sclerosis)۔
ہارمونز کی بے قاعدگیاں مثلأٔ ٹیسٹوس ٹیرون کی مقدار میں کمی (hypogonadism)۔
عضو تناسل کی ساخت کے اندر خرابی (Peyronie’s disease)۔
نچلے پیٹ میں کئے جانے والے آپریشن یا زخم جو حرام مغز (spinal cord)کو متاثر کرتے ہیں ۔
بعض صورتوں میں عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونا کسی اور مرض کی علامت ثابت ہو سکتا ہے۔
عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے نفسیاتی اسباب
عضو تناسل میں تناؤ پیدا کرنے کے لئے مطلوبہ جسمانی کیفیتوں کے سلسلے کو جاری کرنے میں دِماغ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، مثلأٔ جنسی جوش کے احساسات کا شروع ہونا۔ جنسی احساسات میں بہت سے عوامل خلل ڈال سکتے ہیں اور تناؤ نہ ہونے کے معاملے کو مزید خرابی سے دو چار کرسکتے ہیں۔اِن عوامل میں درجِ ذیل اسباب شامل ہیں:
ڈپریشن۔
تھکن۔
اپنے ساتھی سے بہت کم بات کرنا یا اُس سے اختلافات ہونا۔
ؑعضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے نفسیاتی اور جسمانی عوامل ایک دُوسرے کے ساتھ مِل کر کام کرتے ہیں۔مثال کے کے طور پر، ایک معمولی جسمانی مسئلہ ،جنسی ردِّعمل کو سُست رفتار بنادیتا ہے اور نتیجے کے طور پر تناؤ کے بارے میں تشویش پیدا ہو سکتی ہے اور اِس کے نتیجے میں تناؤ نہ ہونے کا مسئلہ مزید شدّت اختیار کو سکتا ہے۔
خطرے کے عوامل۔:
بہت سے عوامل عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کا سبب بن سکتے ہیں:
بڑی عمر کا ہونا: 75سال یا اس سے زائد عمر کے 80فیصد لوگوں میں عضو تناسل کا تناؤ نہ ہونا ظاہر ہوسکتا ہے۔بہت سے مَرد اپنی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ جنسی فعالیت میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں محسوس کرتے ہیں۔تناؤ حاصل کرنے میں زیادہ وقت در کار ہوتا ہے ،تناؤ میں زیادہ شِدّت نہیں ہوتی، اور ممکن ہے ہے کہ عضو تناسل کو براہِ راست تحریک دینے کی زیادہ ضرورت پیش آئے۔لیکن عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کا تعلق براہِ راست عمر سے ہونا ضروری نہیں ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں میں اِس مسئلے کے پیدا ہونے کا سبب اُن کی صحت کی حالت یا صحت کے حوالے سے لی جانے والی ادویات پر منحصر ہوتا ہے۔
بعض مخصوص ادویات کا استعمال: ڈپریشن روکنے والی ادویا ت، اینٹی ہسٹامینز،ہائی بلڈ پریشر ،درد اور پراسٹیٹ کے سرطان کا علاج کرنے والی ادویات کے علاوہ اور بہت سی ادویات کے اثر سے،اعصابی پیغامات یا عضو تناسل میں خون کے بہاؤ میں رُکاوٹ پیدا کرنے کے ذریعے ، عضو تناسل میں تناؤ پیدا نہ ہونے کاسبب بن سکتی ہیں۔سکون آور اور نیند لانے والی گولیاں یا ادویات بھی اِ ن مسائل کا سبب بنتی ہیں۔
بعض آپریشن اور زخم: عضو تناسل کے تناؤ کو کنٹرول کرنے والے اعصاب کے ضائع یا اُنہیں نقصان پہنچنے سے عضو تناسل میں تناؤ پیدا ہونا ممکن نہیں رہتا۔یہ خلل نچلے پیٹ یا حرام مغز (spinal cord) کونقصان پہنچنے سے ہو سکتا ہے۔ مثانے، پراسٹیٹ گلینڈ یا مقعد کے آپریشن کے نتیجے میں عضو تناسل کا تناؤ حاصل نہ ہونے اِمکانات بڑھ جاتے ہیں۔
منشّیات کا استعمال: الکحل، میری یو آنااور دِیگر منشّیات کے طویل استعمال سے اکثر اوقات عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونا اور جنسی خواہش میں کمی پیدا ہوجاتی ہے۔
ذہنی دباؤ، تشویش اور ڈپریشن: دِیگر نفسیاتی عوامل بھی بعض صورتوں میں عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کا سبب بنتے ہیں۔
تمباکو نوشی: تمباکو نوشی ،شریانوں اور نَسوں میں خون کے بہاؤ میں کمی لاتی ہے لہٰذا عضو تناسل میں تناؤ پیدا نہیں ہوتا ۔سگریٹ پینے والے مَردوں میں، ؑ عضو تناسل کا پیدا نہ ہونے کا اِمکان بڑھ جاتا ہے۔
مُٹاپا: معمول کے مطابق وزن رکھنے والے مَردوں کے مقابلے میں زائد وزن یا مُٹاپے کے حامل مَردوں میں ، عضو تناسل میں تناؤ پیدا نہ ہونے کا اِمکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔
غذا کے ہضم ہونے اور اس کی جسم میں ترسیل کے مسائل (metabolic syndrome): اِس کیفیت میں پیٹ پر چربی کا بڑھ جانا ، کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی غیر صحت بخش سطح ہونا،ہائی بلڈ پریشر ہونا اور انسولین کی مُزاحمت مخصوص علامات ہیں۔
طویل عرصے تک سائکل چلانا: تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طویل عرصے تک سائیکل چلانے سے اس کی سیٹ کا دباؤ اندر کی نَسوں کو دبادیتا ہے اور عضو تناسل میں خون کے بہاؤ کو روکتا ہے،اور اِس سے عارضی طور پر عضو تناسل میں تناؤ نہ پیدا ہونا ارعضو تناسل کی حِسّاسیت میں کمی آجاتی ہے۔

Leave a Reply