Home » ہائی بلڈ پریشر اور علاج

ہائی بلڈ پریشر اور علاج

ہائی بلڈ پریشر کا علاج

ہائی بلڈ پریشر کو جدید طب کے ماہرین تو لا علاج قرار دے چکے ہیں ۔لیکن نیچرو پیتھی (طبِ قدیم) کے ماہرین آج بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر بیماری غذائی اجزا ء کی کمی یا بیشی سے پید ا ہوتی ہے اور اگر اس افراط و تفریط کو اعتدال میں بدل دیا جائے تو مرض سے چھٹکارا ممکن ہے۔ یہاں ہم ہائی بلڈ پریشر سے بچائوا ور چھٹکارے کے لیے غذائی پرہیز قارئین کی نظر کرتے ہیں تا کہ اس پر عمل پیرا ہو کر آپ خاطر خواہ حد تک نہ صرف بلڈ پریشر کے حملے سے محفوظ رہ سکیں گے بلکہ اس کے اثراتِ بد سے بھی بچنے والے بن جائیں گے۔نمکین اور تیز مصالحہ جات والی ڈشز، بڑا گوشت کلیجی،مغز، گردے کپورے، انڈا ، سری پائے اور حیوانی چکنائیوں سے ممکنہ حد تک بچا جائے۔تلی ہوئی اشیاء جیسے پراٹھا سموسے،پکوڑے، چپس، نمکو، آلو اور قیمے والے نان اور بیکری کی مصنوعات سے حتی المقدور دور رہیں۔ بناسپتی کی بجائے پکانے کا تیل استعمال کیا جائے تو بہت ہی اچھا ہے۔ چائے، کافی، کولا مشروبات اور سگریٹ و شراب نوشی وغیرہ سے پرہیز صحت مند زندگی کی دلیل مانا جاتا ہے۔ چاکلیٹ جام کیچپ اور چٹنیاں وغیرہ بھی سوائے چسکے کے کچھ فوائد کی حامل نہیں ہوتیں لہٰذا ان سے بھی بچا جا نا چاہیے چینی،نمک اور سیر شدہ چکنائیوں کا کم سے کم استعمال نہ صرف بلڈ پریشر بلکہ کئی دیگر جسمانی عوارض سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔اپنی روز مرہ خوراک میں لہسن،پیاز،ٹماٹر،سبز مرچ،کچی سبزیاں،پھل اور پھلوں کے رس لازمی شامل کریں۔سال میں دو بار جسمانی ٹیسٹ بھی کرواتے رہیں تاکہ اپنی بدنی حالت سے باہم واقف رہا جا سکے۔ ہائی بلڈ پریشر کا تعارفدھیان رہے بلڈ پریشر روزانہ چیک کرواتے رہیں اور ویلیوز مناسب ہونے پر ایک کیپسول کر دیں۔مذکورہ دوا سے بلڈ پریشر میں غیر ضروری کمی بھی واقع ہو سکتی ہے جوکہ نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ورزش کو انسانی صحت اور تن درستی میں بنیادی مقام حاصل ہے۔جس قدر ممکن ہوسکے کسرتِ بدن کی جائے کیونکہ ورزش سے بدن انسانی میں نظام دورانِ خون بہتر حالت میں کارکردگی سر انجام دینے لگتا ہے۔اگر بوجوہ ورزش نہ کر سکتے ہوں تو صبح کی سیر کو اپنے معمول کا لازمی حصہ بنائیں۔صبح کی سیر ہمیں لا تعداد بدنی مسائل سے بچاتی ہے۔رات کو کھانا کھانے کے فوراََ بعد سونے کی روش بھی بے شمار امراض پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ذہنی دبائو اور اعصابی تنائو سے بھی بچنا چاہیے۔رذیل اخلاق تکبر، غرور،حسد، ہوس، لالچ خود غرضی ،انتقام اور بے رحمی کو دل میں کبھی بھی جگہ نہ دیں۔ با لخصوص حسد اور انتقام انسان کو ذہنی طور پر مائوف کر کے رکھ دیتے ہیں لہٰذا ان سے ممکنہ طور پر بچا جائے۔ اچھے اخلاق تواضع، ایثار، عاجزی، رحم دلی ،عفو و در گزر،تحمل برداشت اور قربانی کے جذبات کو پروان چڑھا کر ہم تمام قبیح اور موذی امراض سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔دوسروں کے کام آکر انسان کو ایک گوں نا گوں اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ در اصل یہی اطمینان ہی ذہنی آسودگی کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے اور آسودگی ہی صحت کا بنیادی راز ہے۔دانا کہتے ہیں کہ صحت دنیا کی سب سے بڑی اور قیمتی دولت ہے۔