Home » ہائیڈروسل

ہائیڈروسل

بے اولادی

مردوں کے امراض

بے بے اولادی یا بانجھ پن زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ اور اس دکھ کو وہی محسوس کر سکتا ہے جو اولاد سے محروم ہے۔ انسان جو کچھ محنت کرتا ہے اس کا مرکزو محور بچوں کی ذات ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر بچے ہی نہ ہوں تو ساری دولت، ساری آسائیشیں بیکار ہو جاتی ہیں۔ اولاد سے محرومی ایک ایسی اذیت ہے جو مریض یا مریضہ کی ذات کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے اور وہ صبح شام احساس محرومی کی دھوپ میں جھلستے رہتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اولاد سے محروم خواتین و حضرات کو جو طعنے دئیے جاتے ہیں، جس جس طرح سے ان کی تضحیک کی جاتی ہے وہ جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے اور قسمت کے مارے یہ مریض طعنوں کے نشتر اپنی روح پر محسوس کرتے ہیں اور بیچارگی کے عالم میں ادھر اُدھر دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی مسیحا ان کے دکھوں کا مداوا کردے۔ سیف دواخانہ کے کہنہ مشق اطبائے کرام کی ریسرچ اس حوالے سے مسیحائی کا درجہ رکھتی ہے ان ماہرین نے برسوں کی ریسرچ کے بعد مردانہ و زنانہ بانجھ پن کا جو کامیاب علاج ترتیب دیا ہے اُسکی مثال طبی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس علاج سے مندرجہ ذیل امراض کی روک تھام ہو سکتی ہے۔

ہائیڈروسل-عضو تناسل کا چھوٹا رہ جانا

مردانہ بانجھ پن: ایزوسپرمیا، اولیگوسپرمیا، ہائیڈروسل، ویریکوسل، کن پیڑے، آتشک، سوزاک اور مردانہ کمزوری۔ یہ امراض مردوں کو اولاد کی نعمت سے محروم کر سکتے ہیں۔ سیف دواخانہ کے ماہرین نے اس حوالے سے تین چار مرکبات تیار کئے ہیں جو مادہ تولید میں سپرمز کی بھر پور افزائش کرنے کے ساتھ ساتھ سپرمز کو طاقتور اور متحرک بناتے ہیں۔ ان مرکبات سے کن پیڑے۔ آتشک اور سوزاک کی وجہ سے ہونیوالے منفی اثرات کا ازالہ ہوتا ہے اور جسم میں موجود زہریلا مادہ جو سپرمز کو ہلاک کرتا ہے پوری طرح خارج ہو جاتا ہے۔ یہ مرکبات مردانہ قوت میں حیرت انگیز اضافہ کرتے ہیں سرعت انزال سے بھی نجات دلاتے ہیں اور مردانہ بانجھ پن کو دور کرتے ہیں۔

مردانہ-کمزوری

Leave a Reply